یونیورسٹی صدر کی دعوت پر اور ماہرینِ تعلیم و محققین کی موجودگی میں:  ڈاکٹر العیسی  کا جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں ”نفرت.. اور نسل و مذاہب کے پیروکاروں کے متعلق اسلامی اقدار“کے موضوع پر خطاب واشنگٹن:

یونیورسٹی صدر کی دعوت پر اور ماہرینِ تعلیم و محققین کی موجودگی میں:

ڈاکٹر العیسی  کا جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں ”نفرت.. اور نسل و مذاہب کے پیروکاروں کے متعلق اسلامی اقدار“کے موضوع پر خطاب
واشنگٹن:
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی صدر، محترمہ ایلین ایم گرانبرگ کی  باضابطہ دعوت پر رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل اور مسلم علماء کونسل کے چیئرمین، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی  نے ایک خصوصی خطاب کیا، جس کے بعد  ”نفرت کے  عمومی تصور“ اور  ”ادیان و نسلوں کے پیروکاروں سے عداوت کے معنی کی ایسی جامع تعریف جو ان کے وقار اور انسانیت کو متاثر کرتے ہیں“ کے موضوع پر تفصیلی مکالمہ ہوا۔ اس موقع پر ماہرینِ تعلیم، محققین، طلبہ اور تحقیقی مراکز کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود تھے۔

عزت مآب نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی وقار اسلامی اقدار کا ایک راسخ اصول ہے اور اسلامی شریعت اس وقار کو ٹھیس پہنچانے کی قطعی اجازت نہیں دیتی۔ انہوں نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ تمام مذاہب اور نسلوں کے احترام اور ہر قسم کی نسل پرستی و تحقیر کے خلاف ہمارا موقف مستقل اور غیرمتزلزل  ہے، کیونکہ یہ اسلام کی راسخ اقدار کی ترجمانی کرتا ہے۔

آپ نے وضاحت کی کہ یہ ایک 'مغالطہ' (Fallacy) ہے کہ کسی فرد یا ادارے کے جرائم کی مذمت یا ان کے غلط رویوں پر تنقید کو ان کے مذہب کی توہین یا ان کی نسل سے نفرت سمجھا جائے۔

ڈاکٹر العیسی نے مزید کہا: ” ہمیں  کسی بھی ذمہ دار اسلامی فکر میں ایسی کوئی مثال نہیں ملی جو کسی بھی مذہب یا نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے انسانی وقار کے احترام کو مجروح کرتی ہو، خواہ ان کے بعض پیروکاروں یا ان سے منسوب افراد کے اس طرزِ عمل سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو جو ان کے سیاسی یا غیر سیاسی ایجنڈے یا نظریات کی نمائندگی کرتا ہے جس کا مذہب یا نسل سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلامی نصوص نسلی دشمنی کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتیں بلکہ اسے 'جاہلیت' قرار دیتی ہیں، جو کہ دینی، اخلاقی اور تہذیبی پستی کی علامت ہے“۔ انہوں نے مزید کہا: ”ہم اپنے نظریات اور موقف کی وضاحت مکالمے اور حقائق کے ذریعے کرتے ہیں، نہ کہ نفرت اور نسل پرستی پر مبنی نعروں اور رویوں سے“۔

ڈاکٹر العیسی نے واضح کیا کہ جو شخص دوسرے کی انسانیت کا احترام نہیں کرتا، وہ دراصل خود اپنی ذات سے نفرت کرتا ہے (خواہ اسے اس کا ادراک نہ ہو)؛ کیونکہ انسانیت اپنی اصل میں ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے۔ یہ اسلام میں ہمارا دینی نظریہ ہے، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ” اور ہم نے بنی آدم کو معزز و مکرم بنایا ہے“ ۔ ہم ہر انسان کے باعزت ہونے کے حق پر یقین رکھتے ہیں؛ محض اس لیے کہ وہ انسان ہے، اور یہ وقار تمام نسلوں کے لیے برابر ہے جس میں کسی تفریق یا برتری کی گنجائش نہیں۔

آپ نے بتایا کہ نفرت دوسروں کے خلاف ایک خطرناک منفی جذبہ ہے جو اکثر ”نسلی امتیاز“ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کا جڑ سے خاتمہ شعور کی بیداری اور فکری تحفظ میں ہے جس کا آغاز تمام بااثر ذرائع بالخصوص ”خاندان“اور ”تعلیم“ سے ہونا چاہیے، تاکہ یہ شعور ایک ایسا فطری رویہ بن جائے جو قوانین کی تاثیر سے بھی آگے بڑھ جائے۔ انہوں نے اسے ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری قرار دیا۔

 

یونیورسٹی صدر کی دعوت پر اور ماہرینِ تعلیم و محققین کی موجودگی میں:  ڈاکٹر العیسی  کا جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں ”نفرت.. اور نسل و مذاہب کے پیروکاروں کے متعلق اسلامی اقدار“کے موضوع پر خطاب واشنگٹن:
یونیورسٹی صدر کی دعوت پر اور ماہرینِ تعلیم و محققین کی موجودگی میں:  ڈاکٹر العیسی  کا جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں ”نفرت.. اور نسل و مذاہب کے پیروکاروں کے متعلق اسلامی اقدار“کے موضوع پر خطاب واشنگٹن:
یونیورسٹی صدر کی دعوت پر اور ماہرینِ تعلیم و محققین کی موجودگی میں:  ڈاکٹر العیسی  کا جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں ”نفرت.. اور نسل و مذاہب کے پیروکاروں کے متعلق اسلامی اقدار“کے موضوع پر خطاب واشنگٹن:
یونیورسٹی صدر کی دعوت پر اور ماہرینِ تعلیم و محققین کی موجودگی میں:  ڈاکٹر العیسی  کا جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں ”نفرت.. اور نسل و مذاہب کے پیروکاروں کے متعلق اسلامی اقدار“کے موضوع پر خطاب واشنگٹن:
اتوار, 15 February 2026 - 16:51