20 ربیع الاول 1445ھ، بمطابق 5 اکتوبر 2023ء
اور موریطانیہ کے دارالحکومت ”نواکشوط“ میں صدرِ مملکت جناب محمد ولد الغزوانی کی زیرِ سرپرستی
اس موقع پر منعقدہ سیرت نبوی کانفرنس میں جاری ہونے والے ”نواکشوط اعلامیہ“ میں ان انتہا پسندانہ افکار کے سدِ باب کی اہمیت پر زور دیا گیا جو تصادم اور تنازعات کی بنیاد بنتے ہیں۔ اعلامیے میں خاص طور پر نفرت اور نسل پرستی کے تصورات، ان کے عملی مظاہر اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تشدد اور دہشت گردی کی روک تھام پر توجہ دلائی گئی ہے، جس کا کسی مخصوص دین، فرقے، فکر یا جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اعلامیے میں امتِ مسلمہ کو اپنے عظیم دین کی اقدار سے رہنمائی لینے کی دعوت دی گئی تاکہ اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دے کر دیگر اقوام وطبقات کے لیے نفع بخش بنا جا سکے۔ اسلام اپنے عقیدہ توحید اور حکیمانہ احکامات کے ساتھ ”تمام جہانوں کے لیے رحمت“ اور ”مکارمِ اخلاق کی تکمیل“ کا پیغام ہے، اور ”اللہ کے نزدیک محبوب ترین انسان وہی ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو“۔
اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اسلام نے پرامن بقائے باہمی، اخوت، مصالحت اور رواداری کا ایک مستحکم نظام وضع کیا ہے، جس میں دین، فرقے یا نسل کی تفریق کے بغیر انسانی وقار اور حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ انصاف ایک ہمہ گیر قدر ہے جس میں نہ دوہرے معیار کی گنجائش ہے اور نہ ہی اس کی اقدار کو تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
نیز اعلامیے میں اسلام کے بارے میں پائے جانے والے غلط تصورات کی تصحیح، اور دین کے نام پر جھوٹ و افترا پردازی کرنے والوں یا غلو وانتہا پسندی کا شکار ہونے والوں کی گمراہی کو بے نقاب کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
”نواکشوط اعلامیہ“ دراصل رابطہ عالم اسلامی کی ان کوششوں کا ثمر ہے جن کا مقصد میثاق مکہ مکرمہ کے عملی پروگراموں کو فعال بنانا ہے۔ اس تاریخی اور عالمی میثاق کی سرپرستی خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود (حفظہ اللہ) نے فرمائی تھی۔ اس پر 1200 سے زائدعلمائے کرام اور مفتیان عظام اور 4500 سے زائد مسلم مفکرین نے دستخط کیے تھے، جبکہ اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اسے اپنے دینی، ثقافتی اور تعلیمی اداروں میں نافذ کرنے کی منظوری دی ہے۔ اب یہ میثاق متعدد اسلامی ممالک اور مسلم اقلیتی ممالک میں ائمہ کی تربیت کا باقاعدہ نصاب بن چکا ہے اور اسے مختلف تعلیمی پروگراموں میں بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔