گزشتہ برس آج ہی کے دن: ” مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اسلام آباد اعلامیہ جاری کیا گیا، جسے 20 سے زائد عالمی معاہدوں اور وعدوں کی تائید وحمایت حاصل تھی“

گزشتہ برس آج ہی کے دن:

” مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اسلام آباد اعلامیہ جاری کیا گیا، جسے 20 سے زائد عالمی معاہدوں اور وعدوں کی تائید وحمایت حاصل تھی“۔

اس تاریخی اعلامیے کا اجراء وزیر اعظم پاکستان، محترم جناب محمد شہباز شریف کی زیرِ سرپرستی اور موجودگی میں عمل میں آیا۔

تقریب میں لڑکیوں کی تعلیم کی عالمی علامت اور نوبل امن انعام یافتہ، محترمہ ملالہ یوسفزئی نے بھی شرکت کی۔

نیز اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب جناب حسین ابراہیم طہ، او آئی سی کی نیوز ایجنسیز کی یونین ”یونا“

متعدد وزرائے تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے وزراء بھی اس موقع پر موجود تھے۔

علاوہ ازیں، بین الاقوامی سرکاری وغیر سرکاری تنظیموں

رابطہ جامعاتِ اسلامیہ اور عالم اسلام کی متعدد ”سرکاری ونجی“ جامعات نے بھی اس میں بھرپور شرکت کی۔

اسی تقریب کے دوران رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی نے وزیراعظم پاکستان کے ہمراہ اس عالمی اقدام کا باقاعدہ آغاز کیا:

”مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم“

برسوں سے زیرِ التوا اس مسئلے (جسے بعض حلقوں میں مذہبی تصورات کی وجہ سے متنازع بنا دیا گیا تھا) کے شرعی حل میں کلیدی کردار، عالم اسلام کے نامور علمائے کرام، رابطہ عالم اسلامی کی اسلامی فقہ کونسل اور او آئی سی کی بین الاقوامی اسلامی فقہ کونسل کی شرکت نے ادا کیا۔ ان معتبر علمی اداروں اور جید علماء نے قطعی شرعی دلائل کی بنیاد پر پہلی بار اس مسئلے کی تمام تر تفصیلات اور بحثوں کا احاطہ کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک فیصلہ کن رائے جاری کی۔

اس اقدام کا مقصد مسلم معاشروں میں لڑکیوں کے حقِ تعلیم کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ہے، جس میں نہ تو تعلیم کی کوئی بالائی حد مقرر ہے اور نہ ہی کسی خاص شعبے کی قید۔ اس کا ایک بڑا مقصد ان غلط تشریحات اور رکاوٹ بننے والی روایات کا قلع قمع کرنا ہے جو لاکھوں لڑکیوں کو ان کے اس مسلمہ ”دینی وانسانی“ حق سے محروم رکھتی ہیں۔

یہ اقدام اور ”اس کے تحت طے پانے والے معاہدات“، #میثاق_مکہ_مکرمہ کے مندرجات کو عملی جامہ پہنانے کی ایک کڑی ہیں، جس میں خواتین کو شرعی حدود میں بااختیار بنانے اور بالخصوص ان کے حقِ تعلیم پر زور دیا گیا ہے۔

جمعرات, 5 February 2026 - 12:20