فقہائے امت کے پہلے عالمی فورم ”اسلامی فقہ کی تدریس اور فقیہ کی تربیت “ کے تحت:
رابطہ عالم اسلامی کے اسلامی فقہ کونسل کے زیر اہتمام، ملائیشیا میں فقہائے امت کا عظیم الشان اجتماع
امید ہے کہ یہ اجلاس گہرائی پر مبنی تحقیقات اور سفارشات سامنے لائے گا، جو اسلامی فقہ کے وسیع ذخیرے کو طلبہ کے قریب تر کرے گا، نیز اسلامی دنیا کی جامعات میں فقہ کے نصاب کا جائزہ لے گا کہ وہ کس حد تک ایسے فقہاء تیار کر رہی ہیں جو مسائل و نوازل کو سمجھ کر ان کا شرعی حل نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔مفتی عام مملکت سعودی عرب
فقہ میں تنوع، علمی اثر اور وسعت کا سرچشمہ ہے، جو شریعت کی گہرائی اور لچک کو اجاگر کرتا ہے، اور امت کے عظیم فقہاء نے ہمیشہ اس وحدت کو مضبوط کیا ہے۔ ڈاکٹر العیسی
اسلامی فقہ محض جامد احکام نہیں، بلکہ ایک زندہ علم ہے جو وقت کے ساتھ ارتقا پذیر ہوتا ہے۔ صالح بن حمید
موجودہ دور کی تیز رفتار ٹیکنالوجی اور سماجی ترقی نے ایسے نئے شرعی مسائل کو جنم دیا ہے، جو سابقہ ادوار میں موجود نہیں تھے۔ ملائیشیا کے وفاقی ریاستوں کے مفتی
کوالالمپور:
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں فقہاء کے پہلے عالمی فورم ”اسلامی فقہ کی تدریس اور فقیہ کی تربیت: اصول وضوابط“ کا افتتاح کیا۔ یہ اجلاس رابطہ عالم اسلامی کے اسلامی فقہ کونسل کے زیرِ اہتمام، وزیرِاعظم ملائیشیا جناب انور ابراہیم کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر مسجد الحرام کے امام و خطیب اور اسلامی تعاون تنظیم کے بین الاقوامی اسلامی فقہی اکیڈمی کے صدر، عزت مآب شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید، وفاقی ریاستوں کے مفتی اعظم، شیخ احمد فواز بن فاضل، نیز مملکت سعودی عرب میں ہیئت کبار العلماء کے سیکرٹری جنرل اور دیگر معزز علما، مفتیان کرام اور اقلیتی ممالک کے نمائندہ فقہاء شریک ہوئے۔
مفتیِ عام مملکت سعودی عرب، سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی جانب سے اجلاس میں ان کا پیغام عزت مآب شیخ ڈاکٹر فہد بن سعد الماجد (رکن اسلامی فقہ کونسل اور اس کی علمی کمیٹی کے صدر) نے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فقہ ایک نہایت باریک بینی والا علم ہے جو مخصوص مہارت کا تقاضا کرتا ہے، اور اسلامی مکاتبِ فکر ایک بے مثال فقہی سرمایہ رکھتے ہیں۔
مفتیِ عام نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس ایسی سفارشات اور تحقیقات سامنے لائے گا جو فقہ کے عظیم ذخیرے کو طلبہ کے قریب کرنے میں مددگار ہوں، اور ساتھ ہی مسلم دنیا کی جامعات میں فقہ کے نصاب اور ان کے اثرات کا جائزہ لے تاکہ ایسے فقہاء تیار ہوں جو نئے اور پیچیدہ مسائل پر اجتہاد کر سکیں۔ انہوں نے رابطہ کے اسلامی فقہ کونسل کو امت مسلمہ کے لیے مملکتِ سعودی عرب کی ایک قیمتی پیشکش قرار دیا جو امت کو جوڑنے، محبت کو بڑھانے اور جدید فقہی مسائل کے علمی حل کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے رابطہ عالم اسلامی کے اسلامی فقہ کونسل کا شکریہ بھی ادا کیا، اور اسے مملکتِ سعودی عرب کی طرف سے امت مسلمہ کے لیے ایک قیمتی پیشکش قراردیا جو امت کو جوڑنے، محبت کو بڑھانے اور جدید فقہی مسائل کے علمی حل کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل، شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے فورم کے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی فقہ امت مسلمہ کا معتبر شرعی مرجع ہے، جس نے ہمیشہ مسلمانوں کو ان کے دینی معاملات میں رہنمائی فراہم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امت کے نامور فقہاء نے ہمیشہ امت کی وحدت کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا، اور مختلف فقہی مکاتبِ فکر کے درمیان باہمی علمی تعلق اور علمی ادب کو فروغ دیا۔ یہی اخلاص، وسعتِ نظر اور گہرے علم کی بنیاد پر فقہ کا تنوع ایک عظیم علمی سرمایہ بن گیا، جس نے شریعت کی وسعت اور لچک کو ہر دور اور ہر مقام پر ثابت کیا۔
ڈاکٹر العیسی نے کہا کہ اس تنوع سے وہی لوگ گھبراتے ہیں جو علم، بصیرت اور فہم سے تہی دامن ہوتے ہیں، اور انہوں نے ان لوگوں پر تنقید کی جو محض نصوص یاد کر لیتے ہیں مگر ان کے معانی، حکمت اور اخلاقی پہلوؤں کو نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل وسیع ہے، اور اس کی شریعت آسان اور ہمدردانہ ہے، اور بعض اوقات دلوں کو قریب کرنا کسی ایک اجتہادی رائے پر عمل کرنے سے بہتر ہوتا ہے، کیونکہ امت کا اتفاق اور وحدت، اجتہاد سے کہیں اعلیٰ ہدف ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فقہی اجتہادات کو سمجھنا، اور اسلامی مذاہب کے درمیان علمی مکالمہ، تفاہم اور باہمی احترام کو فروغ دینا ضروری ہے۔ علماء اگرچہ اجتہادی آرا میں مختلف ہو سکتے ہیں، مگر وہ سب ایک ہی عمارت کی اینٹیں ہیں، اور ان کا تنوع اس عمارت کے حسن میں اضافہ کرتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا: ”اس مبارک اجلاس کے لیے ایک ابتدائی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے اپنی ذمہ داری بخوبی انجام دی، اور اسلامی فقہ کی تدریس و تربیتِ فقیہ کے حوالے سے گہرائی سے بھرپور تحقیقی مقالوں پر مشتمل ایک عظیم مجلد تیار کیا، جس پر ہم ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجر عظیم کی دعا کرتے ہیں“۔
دوسری جانب مسجد الحرام کے امام و خطیب، بین الاقوامی اسلامی فقہ کونسل کے صدر اور رابطہ عالم اسلامی کے اسلامی فقہ کونسل کے رکن، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی فقہ جامد احکام کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ علم ہے جو زمانے کے ساتھ ارتقاء پاتا ہے۔ یہ قرآن و سنت سے ماخوذ ہے اور بدلتے ہوئے حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی اصل و اساس پر قائم رہتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فقہی درس کی تجدید کا مطلب یہ ہے کہ اجتہاد کے مدارج کو اس کے اوزار اور معیار کے ساتھ قریب تر کرنا، اور فقہی منابع اور قدیم و جدید فقہاء کی اجتہادی کاوشوں سے استفادہ کیا جائے، ساتھ ہی فقہ کی زبان اور اصطلاحات کو بہتر طور پر سمجھا جائے تاکہ فقہ کے اصول و فروع کی گہری بصیرت حاصل ہو سکے، اور نئے مسائل کو اس طرح حل کیا جا سکے کہ شریعت اور اس کے اصول و مصادر پر کوئی زد نہ پڑے۔
شیخ صالح بن حمید نے کہا کہ فقیہ کی تشکیل کے لیے ایک متوازن علمی شخصیت کی ضرورت ہے، جو گہرے شرعی فہم اور عصری شعور کو یکجا کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ترقی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے جن میں بنیادی شرعی دلائل (قرآن، سنت، اجماع، قیاس اور دیگر مصادر) کی طرف رجوع اور شریعت کے مقاصد اور مکلفین کے مقاصد کو ملحوظ رکھنا شامل ہے۔
اپنے خطاب میں ملائیشیا کے وفاقی ریاستوں کے مفتی، شیخ فواز فاضل نے زور دیا کہ تیزی سے بدلتے حالات اور پیچیدہ ترقیات کے تناظر میں اجتماعی اجتہاد کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید زندگی، جس میں سائنسی اور سماجی ترقی شامل ہے، نے ایسے نئے مسائل پیدا کیے ہیں جو سابقہ ادوار میں موجود نہ تھے، اور ان کے حل کے لیے باریک بین اور منظم فقہی طریقۂ کار کی ضرورت ہے تاکہ شریعت کے مقاصد کے مطابق احکام اخذ کیے جا سکیں اور امت کے مفادات کا تحفظ ہو۔
اجلاس میں اسلامی فقہ کی تدریس کے جدید مسائل پر غور کیا گیا اور معاصر فقیہ کی تشکیل کے لیے اہم اصول اور رہنما خطوط پر روشنی ڈالی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر ایک اختتامی اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں شرکاء نے فقہی مجامع کی جدید اور نمایاں کوششوں کو سراہا جو فقہی اجماع کے میدان میں ایک مؤثر اور منظم نمونہ پیش کر رہے ہیں۔ ان کوششوں میں اجتماعی اجتہاد کے دائرے کو علمی بنیادوں پر منضبط کرنا، اور ایسے علماء کی رہنمائی میں اسے انجام دینا شامل ہے جو فقہ میں وسعت، عملی تجربہ، اور اجتہادی مہارت رکھتے ہیں۔ اعلامیہ میں متعدد سفارشات بھی پیش کی گئیں، جو اسلامی فقہ کے تدریسی عمل اور فقیہ کی تربیت کو بہتر بنانے اور عصرِ حاضر کے فقہی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔
اجلاس کے شرکاء نے ملائیشیا کی وزارتِ عظمیٰ کا شکریہ ادا کیا کہ اس اجلاس کی سرپرستی کی، اور رابطہ عالم اسلامی کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ اس نے اس تاریخی اجلاس کو کامیاب بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس اجلاس کو ایک باقاعدہ سالانہ روایت بنایا جائے جو مختلف اسلامی ممالک میں منعقد ہو، تاکہ فقہاء کے درمیان روابط کو مضبوط کیا جا سکے اور شرعی و علمی امور پر ان کا باہمی مشاورت کا سلسلہ آسان ہو۔